Jump to content

TariqRaheel

Members
  • Content Count

    2
  • Joined

  • Last visited

About TariqRaheel

  • Rank
    Newbie
  • Birthday 05/02/1985

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location
    Pakistan
  1. TariqRaheel

    توازن ہی خوب صورتی ہے

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑے احسن طریقے پر پیدا کیا ہے۔ اس کی شخصیت کی مختلف پرتیں ہیں۔ انسان کی شخصیت کی تعمیر میں تین چیزیں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں: اول: وہ جینیاتی میٹیریل جو والدین کی طرف سے اسے ملا، دوم: وہ ماحول جس میں اس کی پرورش ہوئی ، اور سوم: تعلیم وتربیت ( والدین اور اساتذہ) چونکہ ہمارے ہاں بچوں کی تربیت کا کوئی شعوری ادراک موجود نہیں ہے لہٰذا یہ عموماً اسی عصری ماحول کے زیرِ اثر پرورش پاتے ہیں جو اس وقت موجود ہو، اس بات سے قطعِ نظر کہ وہ اچھا ہے یا برا۔ انسا ن کی شخصیت کا خام مواد معاشرہ کہ کوزہ گر کے ہاتھوں زمانے کے چاک پر جس طرح کی چاہے شکل اختیار کر لے۔ اس کی شخصیت کے مختلف ابعاد ہیں: 1۔ دانش 2۔ اخلاقی 3۔ معاشی 4۔ روحانی 5۔ معاشرتی 6۔ جسمانی 7۔ جذباتی بہت ممکن ہے کہ کچھ لو گ مندرجہ بالا میں سے کس ایک یا ایک سے زیادہ aspects میں بہتر ہوں مگر کسی میں کم ہوں اور کسی میں بہت ہی کم ۔ اس طرح سے جو شخصیت ابھر کر سامنے آئی گی اس میں ایک طرح کے توازن کا فقدان ہو گا۔ خوبصورتی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب توازن ہو۔ ایک متوازن شخصیت ہی ایک کامیاب شخصیت ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شخصیت میں یہ توازن کیسے پیدا ہو۔ اس حوالے سے کچھ چیزیں pre-requisite ہیں: 1۔ اس بات کا شعور کہ شخصیت کی تعمیر ضروری ہے، 2۔ اس چیز کا صحیح ادراک کہ کون کون سی aspects کی تربیت ضروری ہے، اور 3۔ ان ضروری tools کا علم کہ جن کے ذریعے یہ تربیت ممکن ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ کام والدین اور اساتذہ کیا کرتے تھے کہ وہ بچے کے فطری رجحانات کو دیکھ کر ، اس کے اندر کی مختلف خامیوں کی نشاندہی کرتے تھے ۔ مگر ایک عرصے سے یہ کام اب دونوں ہی نے ترک کردیا ہے۔( یہ بات پاکستان کے تناظر میں کی جا رہی نہ کہ کسی دوسرے ملک کے، بہت ممکن ہے کہ کہیں اور بات اس طرح سے نہ ہو۔) معاشرے کےہاتھوں بچہ اب کیسا ہی کیوں نہ بن جائے کسی کو پروانہیں۔ موجودہ دور کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس میں لوگ عموماً شعوری طور پر اپنے مقصدِ حیات کا انتخاب نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیوں کرنا ہے کا علم نہیں ہوتا۔تمام الہامی مذاہب ،بہ شمول اسلام ، انسان کی زندگی کے دو phase کے قائل ہیں: 1۔ حیات اور 2۔ حیات بعد الموت اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو کسی بھی انسان کی شخصیت کی تعمیر و تربیت ان دونوں phases کو مدِّ نظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔ جب ہم حیات بعد الموت کی بات کرتے ہیں تو مذہب خود بہ خود درمیان میں آجاتا ہے کیوں کہ موت کے بعد کی زندگی کی اطلاع ہمیں مذہب ہی دیتا ہے۔ یہ بات بھی بڑی دل چسپ ہے کہ تمام اخلاقی قوانین کا مآخذ بھی مذہب ہی ہے۔ ان دونوں باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب ہمیں زندگی گذارنے کا لا ئحۂ عمل فرہم کرتا ہے جو انسان کی دونوں حیات کے لیے ضروری ہے۔ مغرب بھی اب اس بات کا قائل ہوتا نظر آتا ہے کہ انسان کی شخصیت کی تعمیر میں اخلاقی اور روحانی عوامل کا شامل ہونا ضروری ہے۔ اس حوالے سے اگر دورِ جدید کے management guru ، Stephen R. Coveyکے The Seven Habits of Highly Effective People کا جائزہ لیں تو اس کے ساتویں عادت Sharpen The Sawمیںوہ انسان کی شخصیت کر چار dimensions کا ذکر کرتا ہے: 1۔ جسمانی 2۔ روحانی 3۔ ذہنی اور 4۔ جذباتی یا معاشرتی اس کے خیال میں ان چاروں ابعاد کے باہمی اتصال کے نتیجے میں ایک موثر شخصیت ابھرتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ حیات بعد الموت کا ذکر نہیں کرتا مگر اس کے پورے کام میں اخلاقی اقدار اپنی پوری تونائی کے ساتھ موجود ہیں۔ شخصیت کے مذکورہ بالا تمام ابعاد کا یکے بعد دیگرے جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو ان کی تربیت میں ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں: 1۔ دانش (Intellect) انسان کا ذہن اپنےاندر فطری طور پر تجسس کا رجحان رکھتا ہے۔ یہ اس کاتجسس ہی ہے جو اسے نت نئی چیزیں ڈھونڈنے اور ایجاد کرنے پر اکساتا ہے۔ ہر انسان میں فطری طور پر ایک بنیادی ذہانت موجود ہوتی ہے۔ جب وہ اس ذہانت کو information بھی مہیا کردیتا ہے تو یہ بنیادی ذہانت ایک ابتدائی درجہ کی دانش تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔ اس informationتک رسائی کے کئی طریقے ہیں: اول: کتابوں کے ذریعہ دوم: اچھے لوگوں کی صحبت کے ذریعے، اور سوم: تجربہ کے ذریعہ مندرجہ بالا ذرائع کو علاوہ دورِ حاضر میں انٹر نیٹ بھی ایک اہم ترین ذریعہ ہے، مگر اس کا استعمال نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔فحاشی کے سیلاب کے علاوہ اس کا بہت زیادہ استعمال انسانی ذہن کو فوری انفرمیشن کا عادی بنا دیتی ہے اس کے علاوہ اس کا زیادہ استعمال انسانی ذہن کو یک سُو نہیں ہونے دیتا۔ اس کے بر عکس کتاب کا مطالعہ انسانی ذہن کو یک سُوئی بھی عطا کرتا ہے اور کتاب کے ذریعے ایک خاص روحانی رابطہ بھی قاری اور کتاب کے مابین ممکن ہے۔ اس رابطہ کی وجہ سے قاری میں اس کتاب میں موجود معلومات کا ساتھ کچھ دانش مندی فیض کے ذریعے منتقل ہوتی ہے اور ہر اچھی کتاب اپنےقاری سے ضرور یہ رابطہ پیدا کرتی ہے۔لہٰذا کتاب کے ساتھ تعلق استوار رکھنا اپنی دانش کو بڑھانے میں مدد دیتاہے۔ دوم اچھے لوگوں کی صحبت بھی انسان کی دانش میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔بلکہ یہ کسی بھی انسان کی تربیت کا سب سے اہم پہلو ہے۔ اچھے اساتذہ کی صحبت انسان کے علم و دانش میں جہاں اضافے کا باعث بنتی ہے وہیں اس کی اخلاقی تربیت کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اپنے بزرگوں کی صحبت بھی اخلاقی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ مگر افسوس کہ اب لوگوں کے پاس اپنے والدین اور بزرگوں کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں رہا۔ان لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے میں خاندان کے دیگر لوگوں کے بارے میں ہوتا تھا جس سے ان کے ساتھ تعلقات میں اضافہ ہوتا تھا۔ سوم یہ کہ انسان کی دانشمندی میں اس کی عمر بھر تجربہ بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وقت جو سکھاتا ہے اس کا نعم البدل کوئی نہیں ہے۔ ان تمام چیزوں کے ذریعے ایک بنیادی دانش تو حاصل کی جا سکتی ہے مگراصل دانش اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب ہم غور و فکر کے عادی ہوں۔ یعنی بنیادی ذہانت کے ساتھ انفرمیشن اور اس کے ساتھ غور و فکر۔ اس طرح حقیقی دانش مند تک کا راستہ طے ہوتا ہے۔ 2۔ اخلاقی (Moral) انسان کی اخلاقی تربیت کا جتنا اچھا مواد مذہب نے دیا ہے شائد کسی نے نہیں دیا۔ خالق کو بہتر پتہ ہے کے مخلوق میں کیا کیا خامیاں ہیں لہٰذا اس نے ان کو دور کرنے کے لیے اخلاقی قوانین کا ایک مربوط نظام دیا ہے۔قرآن جن اخلاقی قوانین کا ذکر کرتا ہے اس پر اگر ایک اجمالی نظر ڈالیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ کتنا مربوط نظام ہے۔ اس کے بنیادی عناصر مندرجہ ذیل ہیں: اخلاقی قوانین اللہ کی عبادت عفت و عصمت تحقیق کے بغیر اقدام مذاق اڑانا والدین سے حسنِ سلوک انسانی جان کی حرمت زیادہ گمان نہ کرنا طعن و تشنیع اعزہ و اقربا کے ساتھ تعلق یتیم کے مال میں خیانت ٹوہ میں رہنا غیبت یتامیٰ و مساکین کے ساتھ سلوک عہد کی پابندی غرور و تکبر صدق پڑوس، مسافر اور غلام کے ساتھ برتاؤ ناپ تول میں دیانت حق سے اعراض صبر اللہ کی راہ میں انفاق اوہام کی پیروی حسب و نسب پر فخر حفظِ فروج اوہام کی پیروی حسب و نسب پر فخر حفظِ فروج مندرجہ بالا عناصر پر طائرانہ نگاہ ڈالیے، اس سے زیادہ مکمل اور مربوط نظام اور کہیں نہیں نظر آتا اور یہ تو صرف قرآنِ کریم میں درج عناصر ہیں۔ اسی طرح سے احادیث میں بے شمار ایسے اخلاقی ضابطے ملتے ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہو کر ایک مکمل اور خوب صورت اخلاق کا حامل انسان وجود پا سکتا ہے۔ مگر ان پر عمل کے لیے کچھ چیزیں ضروری ہیں، جو ان کے لیے Pre-requisite ہیں: 1۔ اسلام ( اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردینا) 2۔ ایمان (اللہ تعالیٰ پر اور اس کے وعدوں پر یقین) 3۔ قنوت (اپنے پروردگار کی اطاعت پر قائم رکھنے والی driving force) 4۔ خشوع (اللہ کی ہیبت اور جلال کا حقیقی تصور) 5۔ ذکرِ کثیر (اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنا) یہاں جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے وہ یہ جاننا کہ ان تمام خصوصیات کو اپنی ذات کا حصہ بنانا اتنا آسان نہیں ہے، خاص طور پر موجودہ دور میں جہاں جھوٹ بولنے، دھوکہ دینے، اور دوسروں کا حق غصب کرنے کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ پھر یہ کہ بے جا مصروفیات نے انسان کو اپنا قیدی بنا رکھاہے۔ اس مشکل کے حل کے لیے مندرجہ بالا پانچوں pre-requisites دیے گئے ہیں۔ ایک ایک اخلاقی خاصیت اپنے اندر پیدا کرتے جائیں، پھر دیکھیں کہ کیسا مکمل فرد واجود پاتا ہے اور نتیجتاً ایک خوب صورت معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ Power of Habit کا استعمال کیا جائے۔ شروع میں یقیناً دِقّت کا سامنا کرنا پڑے گا مگر رفتہ رفتہ یہ تمام چیزیں ہماری ذات کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اس کے لیے کچھ اقدام اٹھانے پڑتے ہیں مثلاً: 1۔ پہلے نیت کر لینی چاہیے کہ ہمیں کیا تبدیلی لانی ہے، 2۔ پھر اس پر عمل شروع کرنا چاہیے، 3۔ بار بار کا عمل ہی عادت کہلاتا ہے، 4۔ اسی سے آپ کا کردار لوگوں کے سامنے ابھرتا ہے اور 5۔ آخر میں آپ کے تقدیر کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ غور کریں نیت سے تقدیر تک سب کچھ اللہ نے آپ کے اختیار میں دے دیا ہے۔ وقت کا صحیح استعمال، آپ کی محنت اور اللہ کی نصرت، یہی تین چیزیں ہیں جو تبدیلی لاتی ہیں۔پھر یہ مرحلہ یہاں ختم نہیں ہوتا کیوں کی اصلی لیڈر شپ تو ہے ہی یہی کہ جو اچھی چیز آپ نے اپنے اندر پیدا کر لی ہے اسے اب دوسروں تک، جو آپ کے ارد گرد لوگ ہیں، ان تک پہنچائیں۔ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ ان اصولوں پر مبنی معاشرہ کس قسم کا معاشرہ ہو گا۔ایک خوب صورت، با اخلاق اور صحت مند معاشرہ۔ 3۔ معاشی (Financial) یہ بات نہایت درست ہے کہ خالی پیٹ ایمان کے لیے ایک خطرہ ہے۔ ایک بھوکا آدمی بہت ممکن ہے کہ ایسے کام کر گزرے جو کہ معاشرہ کے لیے نقصان دہ ہوں۔ ہم روز مرّہ کے حالات میں اس کا مشاہدہ اکثر کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ دور کی دو بڑی مصیبتیں خوف اور غم ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا غم معاش کا غم ہے۔ مگر ایک بڑی حیرت انگیز بات جو ابھی میرے تجربے میں آئی کہ ہم اکثر اپنی معاش کی راہ میں خود ہی رکاوٹ کے طور پر کھڑے ہوتے ہیں۔وہ لوگ جو معاشی بد حالی میں مبتلا ہوں، ان کے ہاں کچھ باتیں اکثر مشترک نظر آتی ہیں۔: 1۔ ان کی زندگی میں منصوبہ بندی کہیں نظر نہیں آتی 2۔ ان کے ہاں منزل کا تعین نہیں ہوتا، یعنی وہ goal oriented نہیں ہوتے 3۔ ان میں لگا تار جستجو کا فقدان نظر آتا ہے 4۔ ان کی زندگی میں commitment نہیں ہوتی 5۔ اللہ کے رازق ہونے پر ان کا ایمان متزلزل ہوتا ہے 6۔ ان کے ہاں وقت کےصحیح استعمال کا شعور نہیں ہوتا دنیا ایک بہت بڑی مشین کی مانند ہیں اور ہم سب اس کے پرزوں کی طرح ہیں۔ ہر پرزے کی ایک جگہ معین ہوتی، وہ پرزہ اس جگہ کے علاوہ کہیں اور نہیں لگ سکتا۔ اسے اسی جگہ لگنا ہوتا ہے جہاں کے لیے وہ بنایا گیا ہے۔ مگر اس کے لیے ایک اور شرط بھی ہے یعنی پرزے کا کار آمد ہونا۔ اگر پرزہ ناکارہ ہے تو اپنی جگہ نہیں لگ سکتا۔لوگ اس بات کا رونا تو اکثر روتے ہیں کہ معاش کا کوئی بند و بست نہیں ہے، مگر یہ نہیں سوچتے کہ کیا انھوں نے اپنے آپ کو اس قابل بنایا ہے کہ مناسب انداز میں معاش کا بندو بست کر سکیں۔ یہاں میں اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کرنا چاہوں گا۔ میرا تعلق ایک lower middle class سے ہے۔ والد ایک ملازمت پیشہ شخص تھے۔ ہمارے علاقے میں پڑھنے لکھنے کا رجحان بالکل نہیں تھا۔ میری عمر کے لڑکے عموماً پڑھائی کرنے کے بجائے محلے میں گلی کے نکڑ پر، کسی چبوترے پر یا پھر چوک پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے اور وقت ضائع کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ امتحان بھی بڑے مزے سے نقل کر کے پاس کر لیا کرتے تھے۔مطالعے کا شوق بڑے بھائی سے ملا تھا۔میرا زیادہ وقت پڑھنے میں یا پھر مطالعہ میں گذرتا تھا۔ خدا بھلا کرے میرے ایک استاد کا جنھوں نے یہ راہ دکھائی کہ CSS کا امتحان دو اور کچھ بنو۔یہاں سے منزل کا تعین ہوتا ہے۔ میں اپنے بے شمار دوستوں سے اس کا ذکر کیا کہاامتحان تیاری کریں۔ دوستوں کے دو گروپ بن گئے ایک وہ جنھوں نے میری بات پر کان نہیں دھرا اور وہیں محلے کی نکڑ پر کھڑے رہے اور دوسرے وہ کہ جنھوں میرے ساتھ پڑھائی شروع کر دی۔ ہم کل دس دوست تھے جو پڑھائی میں لگے۔ان دس لوگوں میں سے میں نے اور ایک دوست نے CSS کیا ، میں آج کل ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریوینو کے طور پر تعینات ہوں اور میرے دوست ڈپٹی آڈیٹر جنرل کے طور پر۔ بقیہ میں سے تین دوست PCS کر کے سندھ سیکریٹیریٹ میں ڈپٹی سیکریٹری کے طور پر تعینات ہیں اور ایک دوست اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر پڑھا رہے ہیں۔ میری اس ذاتی مثال سےکئی نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں : 1۔ معاشی کامیابی کے لیے منزل کا تعین ضروری ہے۔جن لوگوں نے ایسا کیا وہ کہیں نہ کہیں پہنچ گئے۔ اور جو ایسانہیں کرسکے وہ وہیں ہیں جہاں تھے۔ 2۔ کچھ لوگ منزل کا تعین تو کرتے ہیں مگر اسے حاصل کرنے کے لیے لگا تار محنت نہیں کرتے، نتیجہ یہ ہو تا ہےکہ درمیان ہی میں کہیں ٹھہر جاتے ہیں جیسا کہ کئی دوستوں کے ساتھ ہوا۔ 3۔ ایسے دوست جن میں منزل تک پہنچنے کی لگن یا تڑپ نہیں تھی وہی راستے میں رک گئے۔لہٰذا منزل تک پہنچنے کے لیے commitment اور passion ضروری ہے۔ 4۔ جن جن لوگوں نے اپنے آپ کو کار آمد بنایا وہ اس مشین میں کہیں نہ کہیں فٹ ضرور ہوئے ۔ 5۔ ناکارہ پرزے وہیں پڑے رہ گئے۔ اب وہ اسکریپ کی طرح ہیں۔ سستے داموں بک گئے تو ٹھیک ورنہ بے کار تو وہ ہیں ہی۔ یہ ضرور یہ کہ اس راستے میں آزمائش آتی ہیں۔ طرح طرح کی ترغیبات اور تن آسانیاں آپ کا دامن پکڑتی ہیں۔ ایسے میں لوگ کوشش ترک کردیتے ہیں۔ فرض کریں کے ایک قطار میں 12 دروازے ہیں کوئی ایک آپ کے لیے کھلنا ہے، اور آپ 11 دروازے تک دستک دے کر پلٹ جاتے ہیں یہ جانے بغیر کہ بارہواں دروازہ آپ کے لیے کھلنا تھا۔ اس پوری گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ: 1۔ کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پہلے اس سے متعلقہ لوگوں سے مشورہ کر لیں 2۔ خوب سوچ بچار کر لیں 3۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لیں 4۔ اگر صلاحیت کم ہے تو پہلے اسے بڑھائیں 5۔ پھر اس کو حاصل کرنے کے لیے لگا تار جد و جہد کریں 6۔ نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں کہ جو بھی ہو گا وہ بہتر ہو گا 4۔ روحانی (Spiritual) فی زمانہ اپنی شخصیت کے جس پہلو کی تربیت کو ہم نے نظر انداز کیا ہے وہ روحانی پہلو ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک طبعیٔ وجود ہیں اور اکثر روحانی تجربے کرتے ہیں جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ ہم دراصل ایک روحانی وجود ہیں جو کے طبعیٔ وجود کے تجربے کر رہا ہے۔ مادّی چیزوں پر بہت زیادہ انحصار، دنیا کے کاموں کا انبار، مصروفیت کا غبار اور ہمارے ارد گرد لوگوں کا انبوہِ بے کنار ہی دراصل ہمارے اور ہمارے خالق کے درمیان پردہ ہے کہ جس کی یاد ہی دلوں کا سکون ہے۔ اسی کو یاد کرنے سے روح کو بالیدگی ملتی ہے۔ٹھیک ہے کہ دنیا میں رہنا ضروری ہے اور اس میں سے اپنا حصہ بھی لینا ہے۔ مگر اس کا انسان کی ہستی سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ مولانا روم نے ایک مثال کر ذریعے سمجھا یا تھا۔ کہ انسان ایک کشتی کی مانند ہے اور دنیا ایک سمندر ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں مگر کیا ہو کہ اگر کشتی میں سمندر کا پانی بھر جائے۔یعنی انسان میں پوری طرح سے دنیا سرائیت کر جائے۔ روحانی تربیت کے لیے کیا کریں؟ یہ اتنا پے چیدہ نہیں ہے کہ اس کے لیے آپ کو کوئی مشکل قسم کا چلۂ معکوس کھینچنا پڑے۔نہ ہی اس سے مراد رہبانیت ہے کہ کسی کونے میں جا پڑیں اور دنیا سے رابطہ توڑ لیں۔اللہ تعالیٰ آپ سے ایک نارمل انسان بننے توقع کرتا ہے نہ کہ ما فوق الفطرت ہستی۔ اس تربیت کی پہلی سیڑھی تو یقناً وہ عبادات ہیں جو کہ ہم پر فرض ہیں۔ خوف سے کی گئی عبادت نہیں بلکہ محبت سے کی گئی عبادت۔ کیا اس کے لیے ہمارے لیے رسولِ کریمﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ ایک نہایت چھوٹا سا فارمولا ہے۔ ایک ایک کر کے اپنے اندر وہ تمام خصوصیات پیدا کریں کو اللہ آپ سے چاہتا ہے اور جس کی تعلیم نبیٔکریم ﷺ نے کی۔ اور ایک ایک کرکے اپنی ذات میں سے ان چیزوں کو نکال دیں جس سے بچنے کا دین میں حکم ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر ایک مرحلے کے بعد آپ روحانی طور پر ایک قدم آگے بڑھے ہیں۔ اگر آپ نے اپنے اندر سے حسد اور کینہ نکال دیا تو آپ ایک درجے روحانیت میں اوپر چلے گئے۔ اگر آپ نے اپنے اندر صدق پیدا کر لیا یا صبر اختیار کیا تو بھی آپ ایک درجے اوپر چلے جا ئیں گے۔اور یوں آپ کو روحانیت کی بلندی نصیب ہو گی۔ مگر ان سب اقدامات کے اوپر جو چیز rule کرتی ہے وہ ہے اللہ کا ذکرِ کثیر۔ یہ اللہ سے قربت کا ایک شاندار ذریعہ ہے۔ اسے کھڑے ہوئے، جھکے ہوئے اور کروٹوں کے بل یاد رکھیں کیونکہ اس کی یاد بہت بڑی چیز ہے۔ نبیٔ کریم ﷺ نے اس کے لیے بے شمار دعائیں تعلیم کی ہیں۔ یہ دعائیں اللہ کو یاد رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ زندگی کا کو ئی لمحہ ایسا نہ ہو کہ جس میں آپ اللہ کو یاد نہ رکھیں۔ کیوں کہ جب آپ اس کو یاد کرتے ہیں تو وہ آپ کو یاد کرتا ہے اور آپ سے زیادہ بہتر انداز میں کرتا ہے۔ 5۔ معاشرتی (Social) معاشرہ چونکہ افراد کا مجموعہ ہے چنا ں چہ ایک اچھا فرد ہی ایک بہترین معاشرے کی بنیاد ہے۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک نہایت خطرناک مرض میں مبتلا ہے، اور وہ ہے فرد کا اپنی ذات کی حد تک محدود ہو جانا۔ اس طرح یہ معاشرہ ایک بے رحم لا تعلقی (indifference) کا شکار ہو گیا ہے۔ جو میرے اچھا ہے بس وہی ٹھیک ہے بے شک اس کا اثر دوسرے پر برا ہی کیوں نہ پڑے۔میں آج اپنی ترقی کے لیے دوسروں کے اوپر پاؤں رکھ کر اوپر چڑھنے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ پورا معاشرہ اس وقت win-lose والی ذہنیت کا شکار ہے۔ میں جیتوں دوسرا بے شک ہار جائے۔ اسی ذہنیت نے معاشرے میں ایک بگاڑ کی صورت پیدا کر دی ہے۔ اس کےا ثرات جا بہ جا نظر آتے ہیں، خواہ وہ ٹریفک کے مسائل ہوں یا پارکنگ کے یا پھر گھر کا کوڑا کرکٹ اپنے گھر کے سامنے سے ہٹا کر دواسروں کے گھر کے آگے ڈالنے کے۔ یہ کیفیت آپ کو تجارت میں بھی نظر آئی گی اور دفاتر میں بھی۔ اخلاق اور مروّت اب گئے وقتوں کی بات لگتی ہے۔بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت اور صلۂ رحمی دوسری دنیا کی چیزیں لگتی ہیں۔ان مسائل کا حل کیا ہے؟ شائد اس کا حل صرف یہی ہے کہ ہم اپنے آپ پر کام کریں اور اپنے اندر بہتری پیدا کریں پھر شائد ہم بھی تبدیلی کا نقّارہ بن سکیں۔ ایک change agent کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے اندر تبدیلی لائے۔ دیکھیے یہاں بھی مذہب پوری توانائی سے آپ کی مدد کرنے کے لیے موجود ہے۔ اس کا پورا اخلاقی نظام جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے دیکھ لیں۔ جن اصولوں کی بات کی گئی ہے وہ سارے کے سارے ایک اچھا فرد اور اس کے نتیجے میں ایک اچھے معاشرے کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ قرآنی کریم جو قوانین ہمیں فراہم کرتا ہے اس کا بیش تر حصہ ان قوانین پر مشتمل ہیں جو معاشرے سے متعلق ہیں۔ چند بنیادی مسائل پر نظر ڈالتے ہیں: 1۔ معاشرہ میں موجودہ خوف کا ایک بڑا سبب افراد کا ایک دوسرے سے دور ہو نا ہے۔ 2۔ معاشرہ کا انتشار کا ایک سبب لا تعلقی ہے۔ ہم اپنے اندر کیا تبدیلیاں لائیں کہ یہ مسائل دور ہوں: 1۔ افراد کے ایک دوسرے سے دور ہونےکی کئی وجوہات ہیں: 1۔ ہماری بے جا مصروفیات۔ مزید کمانے کی جستجو بھی ان مصروفیات کا ایک سبب ہے۔ ہم قناعت پسندی اختیار کرنے کے بجائے مہنگائی اور بڑھتی ہوئی ضروریات کا تدارک مزید کما کر کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ہمیں زیادہ وقت چاہیے ہوتا ہے۔ یہ وقت ہم اپنے ذاتی ، اپنی فیملی یا پھر دوست اور عزیز و اقارب کو دینے والے وقت میں سے نکال کر دیتے ہیں۔ نتیجہ کو طور پر ہمیں خود اپنے لیے ،بیوی بچوں، دوستوں اور عزیز و اقارب کے لیے وقت نہیں ملتا۔ وقت کا نہ دینا دوری کا باعث بنتا ہے۔ جو کہ ایک قسم کی سرد مہری پر منتج ہوتا ہے۔ 2۔ اس دوری کی ایک اور اہم وجہ ہمارے کام کے بعد کی مشغولیات ہیں: 1۔ ہم آج کے دور میں فارغ ہو کر گھر آتے ہیں اور عموماً ٹی وی کے سامنے بیٹھ کے لا تعداد چینلز کے ہاتھوں محصور ہو جاتے ہیں۔ 2۔ رہی سہی کسر انٹرنیٹ نے پوری کردی۔ سوشل نیٹ ورکنگ نے ایک دوسرے سے ملنے ملانے کے عمل کو ایک مصنو عی عمل میں تبدیل کر دیاہے۔ 3۔ کچھ کسر رہ گئی تو اسے cell phoneکے شتر بے مہار استعمال نے پوری کردی۔ لا تعداد sms کے بے شمار پیکجز۔ بس گھر پر رہیں اور وقت کو فضول مشغولیات میں گزاریں۔ 2۔ معاشرے میں لا تعلقی کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ مادّیت پرستی ہے۔ مذہب جس قدر ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی تا کید کرتا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو نا ممکن ہے کہ ہم ایک دوسرے سے لا تعلق رہ سکیں۔ہمارا تو ایمان ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے اگر ہمارا پڑوسی بھوکا سو جائے۔ صلۂ رحمی پر عمل کرنے والا شخص کیسے ضرورت کے وقت اپنے رشتہ داروں کو بھول سکتا ہے۔ حل بہت سادہ ہے۔ دین نے ہمیشہ سادہ ترین حل ہی پیش کیا ہے۔ دین ہمیشہwin-win paradigm پیش کرتا ہے۔ اس کے لیے scarcity of resources کا نظریہ ترک کر کے abundance mentality پیدا کرنی پڑتی ہے۔ میں جو اپنے لیے پسند کروں وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کروں۔پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم ایک دوسرے سے لا تعلق رہ سکیں ایک دوسرے سے کٹے ہو ئے رہ سکیں۔اس کے لیے دین میں سمجھ نہایت ضروری ہے۔ 6۔ جسمانی(Physical) جسم اگر بیمار ہو تو دماغ بھی صحیح کام نہیں کرتا۔ جسم بیمار تب ہو تا ہے جب ہم اس کو اس کی فطرت سےہٹ کر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 1۔ اس حوالے سے سب سے بڑا مسٔلہ غذا ہے۔ مشہور مقولہ ہےYou are what you eat""۔ دورِ جدید ایک بڑی مصیبت اپنے ساتھ junk food کی شکل میں بھی لایا ہے۔اور ہم بھی شیطانوں کی طرح سات آنتوں سے کھا رہے ہیں۔ ذرا نظر ڈالیں اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ منافع بخش اور تیزی سے بڑھنے والا کاروبار فوڈز کا ہے۔ لوگ کھانا پیٹ بھرنے کےلیے نہیں کھا رہے ہیں بلکہ اب کھانا تفریحاً کھا یا جاتا ہے اور بہت کھایا جاتا ہے۔اب خود سوچ لیں معدے کا کیا حال ہو نا ہے۔اور جسم اس غیر فطری تبدیلی کو کس طرح جھیلے گا۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ جواب دے جاتا ہے۔کھانا صرف اس لیے کھائیں کہ زندہ رہنا ہے۔ حد سے تجاوز کرنا ہر حال میں برا ہے۔ 2۔ مادّی ترقی نے انسان کو کاہل بنا دیا ہے۔ نت نی ایجادات نے سہل پسندی میں اضافہ کردیا ہے۔اس کا اثر یہ ہوا کہ انسانی جسم مشقت کا عادی نہیں رہا۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے پہلے خوب محنت کرکے پیسہ کمایا اور اس پیسے سے تعیشات کی چیزیں لیں، ان تعیشات کا عادی جسم جب بے ڈول اور موٹا ہوا تو پھرمحنت کرکے اس کی چربی پگھلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پیدل چلنا اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا چھوڑا گیا تو اعضاء و جوارح میں وہ چستی اور پھرتی نہیں رہی جس سے طبیعت میں ایک خاص قسم کا اضمحلال پیدا ہو تا گیا۔ پیدل چلنے اور خود اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کے نتیجے میں انسان کے اندر غرور و تکبر بھی جڑ پکڑنے نہیں پاتا۔ فرش پر بستر کر کے سونا بھی اس کے لیے اکسیر ہے۔انسان کا دماغ آسمان پر نہیں چڑھتا۔ 7۔ جذباتی (Emotional) انسانی شخصیت کا ایک اہم پہلو اس کی جذبات شخصیت ہے۔ انسانی فیصلوں پر جتنا اس کے جذبات اثر انداز ہو تے ہیں شائد ہی کو ئی اور چیزیں ہوتی ہو۔انسانی جذبات کی گھاتیں اتنی پے چیدہ ہیں کہ فرد کی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ اس کا کون سا فیصلہ اس کی نظر ہو گیا۔اس حوالے سے یہ سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں کہ : 1۔ کیا جذبات کو ئی منفی شئے ہے؟ 2۔ کیا اس کا گلا سختی سے گھونٹ دینا چاہیے؟ جواب یقیناً نہیں میں ہے۔ دراصل جذبات انسانی شخصیت کا وہ پہلو ہیں جو اس کی زندگی میں مختلف رنگ ابھرتے ہیں۔ عموماً ہمیں جذبات کے حوالے سے جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ emotional management ہے۔ اس ضمن میں تین باتیں سوالات اہم ہیں: 1۔ کیا ہم مختلف جذبات کوالگ الگ ان کے صحیح تناظر میں شناخت کرسکتے ہیں؟ 2۔ کیا ہم ان شناخت شدہ جذبات کا صحیح تجزیہ کر سکتے ہیں؟ 3۔ کیا ہم ان جذبات کو کنٹرول کر سکتے ہیں؟ اگر ہم مندرجہ بالا سوالات کا جواب دینے کی کوشش کریں تو ہمیں emotional management کا ایک بنیادی ماڈل مل سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھیے کہ کیا ہم مختلف انسانی جذبات مثلاً anger اور hurt میں تمیز کرسکتے ہیں۔ کیا ہمیں یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ اگر میرے والد نے مجھے ایک تھپڑ مارا ہے تو مجھ میں anger پیدا ہوا یا میں hurt ہوا۔ اسی طرح سے کیا ہم love اور admiration فرق کر سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ کرنے قابل ہو جائیں تو ہم مختلف جذبات کو شناخت کر سکتے ہیں جو کہ اس ماڈل کا پہلا مرحلہ ہے۔ دوسرے مرحلے میں یہ دیکھنا ہو گا کہ ان جذبات کے پیدا ہونے کی وجہ کیا ہے؟ وہ حقیقی ہے یا غیر حقیقی۔ کہیں ہم کسی خارجی دباؤ یا داخلی تبدیلی کی وجہ سے تو ایسا محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ اس کی ایک بہترین مثال نوجوانی میں عشق کا ہونا ہے۔ اس وقت دونوں عوامل اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔داخلی تبدیلی سنِ بلوغت میں خارج ہونے والے مختلف ہارمونز کے زیرِ اثر وقوع پذیر ہو رہی ہوتی ہے دوسری طرف ہمارا معاشرہ ، خصوصی طور پر دوست احباب، میڈیا اور پھر رومانی ادب اس تبدیلی کو ایک نام دے رہا ہوتا ہے جسے لوگ محبت کہتے ہیں۔ یہاں شدید ضرورت ہوتی ہے کہ اپنے اندر پیدا ہونے والی تبدیلی کا صحیح تجزیہ کر کے اس کے اصل محرکا ت کا اندازا لگایا جا ئے۔ تیسرے مرحلے میں ایسے تمام جذبات پر قابو پانے ہنر سیکھنا ہے جو کہ فرد اور معاشرہ کے لیے ضرر رساں ہیں۔ Emotional Management پر اب تو بے شمار کام ہو چکا ہے۔ خاص طور پر Daniel Goleman کی Emotional Intelligence بہت مشہور ہوئی۔ IQ کے ساتھ ساتھ اب افراد کے EQ کی پیمائش کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ انسانی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ : 1۔ انسان ایک با شعور ہستی ہے اور اسے یہ زندگی پورے شعور کے ساتھ گزارنی چاہیے نہ کہ جدھر کی ہوا ہو ادھر چل پڑنا چاہیے۔ 2۔ انسان کو اپنی منزل کا تعین کرنا چاہیے۔ جس میں دنیا کی زندگی کے ساتھ ساتھ اس دنیا کے بعد کی زندگی کی بھی پلاننگ ہو۔ 3۔ اپنے وقت کا ایسا استعمال ہو کہ وقت رائیگاں نہ جائے۔ وقت گزارنے کے لیے مختلف مشاغل اختیار کرنے کی ضرورت ہے مگر مشاغل ایسے نہ ہوں جو وقت کو قتل کردیں کیوں کہ ہمیں اپنے بتانے والے ایک ایک پل کا حساب دینا ہے۔ 4۔ شخصیت کے تمام پہلوؤں کے مابین ایک توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ توازن ہی خوب صورتی ہے۔ 5۔ زندگی گذارنے کے لیے رویّے میں اعتدال پیدا کرنا ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ ہم کبھی کبھی اعتدال سء تجاوز بھی مگر کوشش کریں کہ جتنا زیادہ ممکن ہو اعتدال کے قریب رہیں۔
  2. یہ بات واضح ہے کہ ہمیں سنت سے محبت ہے، ہر دو فریق کو۔ اور یہ بات بھی مخفی نہیں ہے کہ ہماری اس بحث کا سبب سنت سے لگن ہی ہے۔ اور ہم یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اختلاف کی صورت میں سنت سے قریب تر بات اپنانی چاہیے۔ اور اس کی بنیاد بھی رضاء الہی کا حصول ہو۔ اللہ تعالی ہمیں اخلاص عطا فرمائیں۔ اگر آپ مذکورہ بالا باتوں سے اتفاق کرتے ہیں، اور یقینا کرتے ہوں گے، تو آگے پڑھیے۔ ۔ ۔ ۔ کیا آپ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ اختلاف رائے کا وجود فطری امر ہے۔ اور اختلاف عموما جہاں نصوص کے فہم میں مختلف ہونے کی وجہ سے ممکن ہے تو وہاں اس کا سبب علم میں کمی و بیشی بھی ہوسکتا ہے۔ جبکہ بعض اوقات معیار پرکھ (Criteria) اور اصول و ضوابط میں فرق فرق رستوں والا ہونا اختلاف کا باعث ہوتا ہے۔ ان سب کے علاوہ ایک اور وجہ ،جو عموما ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے، ضد، تعصب اور انا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اس سے محفوظ رکھیں۔میں اس بحث میں پڑنا چاہتا کہ دوسرے شخص کے ضد اور تعصب میں آنے کی وجہ بھی بعض اوقات ہمارا اپنا رویہ ہوتا ہے۔ صحابہ کرام ؓ میں اختلاف رائے کوئی اجنبی معاملہ نہ تھا، کئی ایک موقعوں پر وہ دوسرے سے اختلاف رائے رکھتے۔ اور اس کا سبب فہمِ نصوص میں اختلاف کے ساتھ بسا اوقات علم نصوص میں کمی بیشی بھی تھا۔ مگر جب غلط فہمی سے صحیح فہمی کی طرف سفر کیا یا عدم علم سے علم کے زینے پر چڑھے تو اپنے رائے تو بے دھڑک بدل ڈالا۔ کیا ہم اتنی جرات رکھتے ہیں کہ اپنی بات کے کا ضعف واضح ہونے کے بعد کھلے عام اعتراف کر لیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو آگے بڑھیے ابھی تک ہم متفق ہیں۔ ۔ ۔ ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی مسئلہ میں آپ سے مختلف رائے رکھتا ہے ، اور متبع سنت ہونے کے علاوہ دین کے ساتھ مخلص بھی ہے تو اس کاآپ سے مختلف الرائے ہونا ، اس سے نفرت کا سبب قرار نہ پا سکتا۔ اگرچہ آپ کو ہزار بار ہی یقین ہو کہ آپ درست رائے پر ہیں۔ قابل نفرت ہونا تو درکنار اللہ تعالی تو مخلص مجتہد کو اجر سے نواز رہے ہیں۔ اب یقینا آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اسے بتانا تو آپ کا فریضہ ہے۔ آپ یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں۔ اسے وہ کچھ ضرور بالضرور جسے آپ درست سمجھ رہے ہیں مگر اس طریقے سے التي هي احسن۔ شريعت اسلامیہ آپ کو اپنے رائے کے اظہار کے لیے صرف ایک رستہ فراہم کرتی ہے اور وہ صرف احسن انداز اور طریقہ ہے۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اچھے ترین طریقہ سے اپنی رائے کا اظہار کرنا ہم پر فرض ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے دوسرے سے اختلاف رکھنے کے باوجود بھی احترام کا دامن نہیں چھوڑا۔ یہ تو تصویر کا ایک رخ آپ نے ملاحظہ فرمایا ۔اب ذرا دوسرے رخ کی طرف بھی التفات کیجئے۔ جس طرح آپ اپنے آپ کو درست سمجھ رہے ہیں، بعینہ مخاطب و فریق ثانی بھی اسی نفسیات میں جی رہا ہے۔ اور جس طرح آپ درست بات کو (جو آپ کے نزدیک درست ہے) پہنچانا اپنا فریضہ خیال کرتے ہیں اسی طرح مسلمان ہونے کے ناطے وہ بھی اس عقیدہ پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جس طرح آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کی بات دھیان اور توجہ سے سنی جائے بعینہ اخلاقیات او رتہذیب آپ کے لیے بھی یہ دائرہ کھینچتی ہے۔ اس لیے مخاطب کی بات کوپورے انہماک سے سنیے، ایسے کہ جیسے آپ اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نہ کہ آپ کی باڈی لینگویج (Body language) چیخ کر بتلا رہی ہو کہ آپ تو محض بات ختم ہونے کے منتظر ہیں (ویسے ہمارے یہاں یہ بھی غنیمت ہے) اور بات ختم ہوتے ہی اپنی رائے تو تھوپنے کی کوشش کریں گے۔ انہماک اور لگن دوسرے کی بات سننے کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوجاتی ہے جب ہم انسان ہونے ناطے ہم اس بات پر یقین رکھیں کہ غلطی کا امکان مجھ سے بھی ہے۔ اگر آپ کا جواب اثبات اور ہاں میں ہے تو آپ کا مزید ساتھ نصیب ہورہا ہے۔ آپ کی یہ ہاں بہت اہم ثابت سبق دے رہی ہے کہ ہمیں اپنی رائے کے درست ہونے کا یقین ہے اس امکان کے ساتھ کہ یہ غلط بھی ہوسکتی ہے۔ اور مخاطب کی رائے کو ہم غلط سمجھتے ہیں اس امکان کے ساتھ کہ وہ درست بھی ہوسکتی ہے۔ گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب بھی کسی مسئلہ میں اختلاف ہو جائے تو سب سے پہلے رب تعالی کے سامنے سر بسجود ہو کر حق تک رسائی کے طلب گارہونا چاہیے، اور پھر اپنی تئیں جتنی جستجو و سعی ممکن ہو کی جائے۔
×